13 مارچ 2013 - 20:30

ونيزوئلا ميں صدارتي اليکشن کے اميدواروں کي جانب سے کاغذات نامزدگي جمع کرانے کے ساتھ انتخابي سرگرميوں کا باضابطہ آغاز ہوگيا ہے -

ابنا: کاراکس سے موصولہ رپورٹ کے مطابق حکمراں جماعت اور حزب اختلاف ، دونوں کے اميدواروں نے اليکشن کميشن ميں کاغذات نامزدگي جمع کراديئے - حکمراں جماعت کے اميدوار موجودہ عبوري صدر مادورو ہيں جو آنجہاني صدر ہيوگو شاويز کے دور ميں  وزير خارجہ اور پھر نائب صدر رہے ہيںانہوں نے اپنے کاغذات نامزدگي داخل کرانے کے بعد عوام کے ايک اجتماع سے خطاب ميں کہا کہ ونيزوئلا ميں امريکا سے وابستہ لوگوں کي حکومت کا دور کبھي واپس نہيں آئے گا -

انہوں نے اسي کے ساتھ اس عہد کا ايک بار پھر اعادہ کيا کہ ہيوگو شاويز کي پاليسي کو جاري رکھيں گے - نيکولس  مادور کے ساتھ ہي ، پير کو ان کے حريف، حزب اختلاف کے اميدوار ہنريک کيپري ليس نے بھي اپنے کاغذات نامزدگي داخل کراديئے ہيں - ونيزوئلا کے آئين کے مطابق صدر کي موت کي صورت ميں تيس دن کے اندر اليکشن ہونا ضروري ہے -ونيزوئلا کے اليکشن کميشن نے ہيوگو شاويز کے انتقال کے بعد  صدراتي اليکشن کے لئے چودہ اپريل کي تاريخ معين کي ہے - اميدواروں کے پاس اپني انتخابي سرگرمياں چلانے کے لئے دس دن کا وقت ہے -ادھر جنوبي کيليفورنيا کي يونيورسٹي کے پروفيسر گرادو مائيونک نے کہا ہے کہ آئندہ اليکشن  ميں نيکلولس مادورو اور کيپري ليس کے درميان رقابت کي صورتحال اس سے مختلف نہيں ہوگي جو اکتوبر کے انتخابات ميں  ہيوگو شاويز اور  کيپري ليس کے درميان تھي - انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال ميں کوئي تبديلي آئي تو وہ نيکولس مادورو کے حق ميں ہوگي کيونکہ  ہيوگو شاويز سے ونيزوئلا کے عوام کے  قلبي لگاؤ کے ساتھ ہي ان کي موت سے پيدا ہونے والے جذباتي احساسات کا فائدہ بھي مادورو کو پہنچے گا.

.....

/169